Uncategorized

Pukhta Yaqeen Ghurbat ki Jarron ko ukhar sakta hai!!

motivational story in urdu

پختہ یقین غربت کی جڑوں کو اکھاڑ سکتا ہے

بنگلہ دیش کے محمد یو نس کے ساتھ بھی ہو ا۔ جب وہ امر یکہ سے ڈاکٹر یٹ کی ڈگر ی کر کے واپس آیا تو اس نے ایک یو نیورسٹی میں پڑ ھا نا شروع کر دیا یہ 1974کا دور تھا۔جب بنگلہ دیش قحط کی وجہ سے تبا ہ حالی کا شکار تھا۔ محمد یو نس جب یونیو رسٹی کے اندر جد ید قسم کے نظر یا ت پڑ ھا کر اپنی نئی گاڑی پر یو نیورسٹی سے  نکلتا تو با ہر قیا مت خیز منظر کو دیکھ کر بڑ ا ہی افسر دہ ہو تا اور دل میں سو چتا کہ ہمارے جدید نظر یا ت پڑ ھانے کا کیا فائدہ جب ہم اپنے ملک کی، قحط میں گھری ہو ئی عوام کی مصیبت کا حل نہ ڈھو نڈ سکیں۔ ایک دن جب وہ یو نیورسٹی سے با ہر نکلا تو اپنی گا ڑی کا رخ ایک قر یبی گاؤ ں کی طر ف مو ڑا وہا ں پر اُس نے ایک بڑ ھیا کو دیکھا جو

با نس کی کُر سی بنا رہی تھی۔ محمد یو نس نے اس سے پو چھا کہ تمہیں اس کے کتنے پیسے ملتے ہیں اُس نے کہا کہ مجھے دن سارا کا م کر کے دو  ر وپے (جو اُس دور کے مطا بق بہت  تھوڑی رقم ہے)  ملتے ہیں کیو نکہ میر ے پا س بانس خرید نے کے پیسے نہیں ہیں۔لہٰذ ہ میں ایک دکا ندار کے پا س جا تی ہو ں، وہ
 مجھے بانس کی لکڑ یا ں دے دیتا ہے، میں اُن لکڑیوں کو گھرپر لا کر،دن سار ا بنا تی ہو ں اور

شا م کو اُسی دکا ندار کو بیچ آتی ہو ں، وہ مجھے پوری رقم نہیں دیتا اور اس طر ح سے میرا استحصا ل کر تا ہے، اُس نے کہا کہ اگر میں یہ کُر سیا ں کسی اور دکا ندار کو بیچو ں تو مجھے زیا دہ پیسے ملیں گے لیکن میر ے پا س پیسے نہیں ہیں کہ میں اپنا کا م شروع کرو ں۔ محمد یو نس نے پو چھا تمہیں کتنے پیسے چاہیں جس سے تمہار ا کا م شروع ہو جائے

اُس نے انتہا ئی چو نکا دینے والا جواب دیا۔ پچیس روپے (0.25یو ایس ڈالر) سے میں اپنا  کا روبار شروع کر سکتی ہو ں اور اپنی بنا ئی ہو ئی بانس کی کر سیا ں کسی بھی دکاندار کو بیچ کر زیادہ منا فع حاصل کر سکتی ہو ں۔ ڈاکٹر یو نس بہت پریشان ہو ا،اور مزید تحقیق سے پتہ چلا کہ اس بستی میں بیا لیس گھر اور ہیں اور سب کارو باریلو گوں کے قر ض دار ہیں۔ جب قر ضے کا حسا ب لگا یا گیا تو وہ اوربھی حیر ان، پریشان ہو ا کہ ستائیس ڈالر سے پورا گاؤں قرضے کی مصیبت سے آزاد ہو سکتا ہے۔ اُس کے پا س اُس وقت تیس ڈالر تھے،تین ڈالر اپنی جیب میں رکھے

اور با قی ستائیس ڈالر سے گاؤ ں والوں کو قر ض سے آ زاد کرایا۔ وہ اپنے قریبی بینک میں اپنے دوست کے پا س گیا اور اُسے کہا کہ آپ ان گاؤ ں والوں کو قرضہ دیں تا کہ یہ اپنا روز گار چلا سکیں۔ اُس نے کہا کہ ہم ایسا نہیں کر سکتے
کیو نکہ یہ بہت ہی غر یب لوگ ہیں اور ان کے پا س ضما نت کیلئے نہ ہی کو ئی
جائید اد ہے اور نہ ہی کوئی اثاثے۔ ڈاکٹر محمد یو نس کا خیا ل تھا کہ قر ضے
 عورتوں کو  دیئے جائیں کیو نکہ عورت گھر کی ذمہ دار ہو تی ہے اور اُس کی صلا حیتں دُنیا کے بڑے بڑے معا شیا ت دانوں سے بھی کہیں زیادہ ہیں۔ بینک والوں کے انکار پرڈاکٹر یو نس نے اپنی ضما نت دی اور گاؤ ں والو ں کو قر ضہ دلوایا۔

مقررہ مُد ت میں تما م گاؤ ں والوں نے قر ضہ بھی واپس کر دیا اور خو شحال بھی ہو گئے لیکن بینک کے آفسرا ن نے کہا کہ اگر تم یہ تجر بہ مزید گاؤں کے اوپر کر و گے تو نا کام ہو جاؤ گے۔ ڈاکٹر یو نس نے دو گا ؤ ں وا لوں کو قر ضہ دلو ایا اور انہوں نے بھی  واپس کر ویا   پھرپانچ دس  پچاس  اور  آخر  میں  سو بستیوں میں  قرضہ دیا گیااور انہو ں نے بھی واپس کر دیا۔

لیکن بینک کے لوگ خطرہ مول لینے کیلئے پھر بھی تیار نہ ہوئے کیونکہ ان کی تربیت ایسے ہی کی جائی ہے کہ غریب جس کے کوئی اثاثے نہیں ہیں قابل اعتبارنہیں ہوتا۔ ڈاکٹریونس نے سوچا کہ ان بینک والوں کو سمجھانے کیلئے توانائیاں صرف کرنے سے بہتر ہے کچھ ہم خیال لوگ مل کر اپنا بینک بنا لیں

اسں  طرح انہوں نے گرامین بینک کی بنیاد رکھی۔             جسں کی بنیاد” اعتماد ” تھا  1983 میں بنگلہ دیش کی حکومت نے بھی گرامین بنک کی خدمات کو سراہا اسں بینک کے ذریعے غریبوں کوبہت چھوٹے قرضے دیے جاتے ہیں اورقرضے کی وصولی ہفتہ  وار چھوٹی چھوٹی  اقساط کی صورت میں ہوتی ہے۔پچاس  ہزا رکے قریب بھکا ری بھی قرضے لے کرکاروبار شروع کرچکے ہیں۔ا ڑھائی کر وڑ کے قریب بنگلہ دیشی اس بینک کے ذریعے خوشحالی کی حسین شاہراہ پرگامزن ہو چکے ہیں۔ اس بینک کی بارہ سوسے زائد برانچیں ہیں اور بارہ ہزار سے زائدملازمین۔ 2006 میں ڈاکٹر یونس کواس کی خدمات کے اعتراف میں نو بل پرائز بھی ملا۔ ڈاکٹر یونس کی کہانی سے ہم یہ سیکھ سکتے ہیں کہ ایک آدمی بھی اگرپختہ یقین کے ساتھ عمل کے میدان  میں اتر آئے تو  وہ غربت کی جڑوں کو اُکھاڑکر ترقی اور خوشحالی کی نئی راہیں ہموار کر سکتا ہے۔ دوسرا پیغا م جو  اِس کہانی سے ملتا ہے وہ یہ ہے کہ کسی بھی موڑ پر ہمیں مقصد حیات مِل سکتا ہے اور ہم راز حیا ت پا کر انسانیت کے کسی بھی پہلو کو لے کرخد مت خلق پر ما مُور ہو سکتے ہیں۔
 

Topic taken from book “Kamyabi ka Safar”by Ajmal dasjayPal

Tags

Related Articles

One Comment

Leave a Reply

Back to top button
Close