Articles

Who was the Ertugrul Ghazi, here you can know about Ertugrul Ghazi

Who was Ertugrul Ghazi

ارطغرل غازی کون تھا؟ History of Ertugrul Gazi

ارطغرل غازی کون تھا؟ارطغرل اور خلافت عثمانیہ” کی بنیاد کو سمجھنے کے لیے ہمیں بارہویں صدی کے سنٹرل ایشیا کو جاننا ہو گا‘ سنٹرل ایشیا میں  اس وقت سلجوق حکمران تھے‘ ان کی سلطنت اور حکومت آج کے ترکی پر مشتمل تھی‘ قونیہ دارالحکومت تھا اور یہ پورا علاقہ’ ارض روم’ کہلاتا تھا‘ سلجوقی ریاست کے ایک طرف منگول تھے، یہ مارتے، دھاڑتے اور کھوپڑیوں کے مینار بناتے ہوئے آگے بڑھ رہے تھے،یہ سلجوقوں کو روند کر مشرقی یورپ اور مشرق وسطیٰ جانا چاہتے تھے، دوسری طرف عیسائیوں کی بازنطینی ریاست تھی۔یہ ریاست آج کے ترکی کے شہر اناطولیہ کے ساتھ ساتھ چلتی ہوئی بلیک سی اور استنبول سے ہوتی ہوئی پورے مشرقی یورپ پر مشتمل تھی۔ یہ بھی سلجوق ریاست پر قبضہ کر کے اپنی سرحدیں چین تک وسیع کرنا چاہتےتھے۔سلجوقی ریاست کا تیسرا حصہ ایوبی ریاست سے جڑا ہوا تھا۔  یہ حصہ شام، فلسطین اور مصر پر مشتمل تھا جب کہ سلجوقوں کی چوتھی سمت میں ایران تھا، سلجوق دور شورشوں کا زمانہ تھا، ہر طرف جنگ چل رہی تھی اور قتل وغارت گری کا بازارگرم تھا۔  منگول اور بازنطینی عیسائی دونوں” بیت المقدس” تک بھی پہنچنا چاہتے تھے لیکن دونوں کے عزائم کے راستے میں سلجوق اور ایوبی دو مضبوط ترین ریاستیں کھڑی تھیں۔    یہ دونوں ان دونوں کو راستے سے ہٹانا چاہتے تھے۔  منگول آج کا ازبکستان اور ایران فتح کر چکے تھے۔  خیوا کا حکمران خوارزم شاہ بھی راستے کا مضبوط کانٹا تھا۔ اس کی ریاست ہندوستان کے شمالی علاقوں سے لے کر جارجیا تک پھیلی تھی۔  چنگیز خان نے یہ کانٹا نکال دیا تھا، عراق میں عباسیوں کی حکومت تھی اور مصر میں مملوک خاندان برسر اقتدار تھا۔  یہ بھی بازنطینی اور منگول حکمرانوں کا ٹارگٹ تھے لیکن ایوبی ریاست اور سلجوق حکمرانوں کے ہوتے ہوئے مصر اور عراق پہنچنا مشکل تھا  لیکن نہ ممکن نہیں ۔چناں چہ منگول اور بازنطینی عیسائی دونوں ایوبیوں اور سلجوقوں کے خلاف اکٹھے ہو گئے۔  یہ ان دونوں کو آپس میں لڑاتے بھی رہتے تھے تاکہ مسلمان آپس میں لڑ لڑ کر کم زور ہو جائے۔دوسرا منگول خود بھی ایوبیوں اور سلجوقوں پر حملے کرتے رہتے تھے اور تیسرا بازنطینی ‘صلیبی جنگوں ‘کے ذریعے ایوبی ریاست پر حملہ آور ہوتے رہتے تھے، لہٰذا دونوں ریاستیں باہمی اور بیرونی حملہ آوروں کی وجہ سے کم زور ہو رہی تھیں۔ بازنطینی اور منگولوں نے ایوبی اور سلجوق دونوں ریاستوں کے محلات میں اپنے جاسوس بھی چھوڑ رکھے تھے تاکہ پوری جانکاری ملتی رہے ۔ یہ لوگ بھی بادشاہوں کو محلاتی سازشوں میں الجھا کر کم زور کرتے چلے جا رہے تھے چناں چہ وہ ایک مشکل دور تھا۔سلجوق بادشاہ علاؤ الدین کیکباد سلجوق ریاست کا سلطان تھا۔

History of Ertugrul Gazi

 یہ منگولوں، ایوبیوں اور محل میں موجود غداروں سے بیک وقت لڑ رہا تھا۔  یہ کسی چوتھے محاذ کا متحمل نہیں ہو سکتا تھا لیکن پھر بھی اس کے خلاف ایک چوتھا محاذ بھی سر اٹھا رہا تھا اور وہ تھا بازنطینی حکمران۔  علاؤ الدین سلجوق جب منگولوں یا ایوبیوں سے لڑنے کے لیے نکلتا تھا تو اس کی پیٹھ ننگی ہو جاتی تھی اور اس پیٹھ پر بازنطینی وار کر نا   شروع کر دیتے تھے۔  وہ یک سوئی قائم رکھنے کے لیے اپنی پیٹھ بازنطینی عیسائیوں سے بچانا چاہتا تھا لہٰذا علاؤالدین نے سلجوق اور بازنطینی ریاست کے ساتھ ساتھ آغوز قبائل آباد کرنا شروع کر دیے۔آغوز ترکوں کے جری قبائل تھے،  یہ تعداد میں 24 تھے،  بھیڑ،  بکریاں اور گھوڑے پالتے تھے۔  مرد تلوار بازی اور تیراندازی کےماہر  تھے اور عورتیں نہایت عمدہ ریشمی قالین اور سوتی کپڑا بناتی تھیں۔  قبائل کے سربراہ ”بے“ کہلاتے تھے۔  قبائل کی زبانوں کےسینتیس ( 37 )ہزار لفظ بعد ازاں اردو میں شامل ہو ئے‘ ہماری زبان کا ہر تیسرا لفظ آغوزترک قبائل سے ہندوستان آیا تھا۔  یہ قبائل اس قدر جنگجو تھے کہ یہ کسی دوسرے قبیلے کے”بے“ کو بھی اپنا سربراہ یعنی سر دار    ماننے کے لیے تیار نہ  ہوتے تھے تاہم یہ سلجوق بادشاہ کو اپنا حکمران مانتے تھے۔علاؤالدین سلجوق نے ان پر کنٹرول رکھنے کے لیےچوبیس  (24 )قبائل کے سربراہوں کی ”بے مجلس“ بنا ئی اور سلجوق خاندان کے ایک شہزادے امیر سعادت کو اس کا سربراہ بنا دیا،  یہ وزیر کہلاتا تھا۔  آغوز قبائل ریاست کے لیے دو کام کرتے تھے، پہلا  یہ بازنطینی حملہ آوروں کا راستہ روکتے تھے اوردوسرا   اناطولیہ” مشرقی یورپ” ایران اور فلسطین جانے والی شاہراہ ریشم کے تجارتی قافلوں کی حفاظت کرتے تھے، قائی ان چوبیس( 24 ) آغوز قبائل میں سے ایک کم زور قبیلہ تھا، یہ لوگ تعداد میں بھی کم تھے ۔  مال مویشیوں اور دولت میں بھی تاہم اس کا ‘بے ‘سلیمان شاہ معزز اور بہادر شخص تھا۔ یہ اپنے قبیلے کے ساتھ آج کے شام کے شہر”  رقہ” کی مضافاتی وادی میں آباد تھا،  اس کے چار بیٹے تھے،ارطغرل  کا دوسرا نمبر تھا، ارطغرل انتہائی بہادر، سمجھ دار اور ماہر جنگجو تھا, والد اس سے بہت محبت کرتا تھا, ارطغرل شکار کا رسیا تھا, یہ اپنے تین دوستوں ترگت, عبدالرحمن اور دون کے ساتھ شکار کھیلتا رہتا تھا۔ ارطغرل کے تینوں دوست یتیم تھے اور انہیں اس کی ماں حیمہ خاتون نے پالا تھا، وہ ارطغرل کے ساتھ پل کر جوان ہوئے تھے چناں چہ وہ اس پر جان چھڑکتے تھے۔اس زمانے میں عالم اسلام میں دو عظیم صوفی دانش ور تھے” مولانا روم اور حضرت محی الدین ابن عربی”۔  مولانا روم قونیہ میں رہتے تھے اور وہ سلجوق حکمرانوں کے روحانی استاد تھے جب کہ ابن عربی کا مدرسہ ‘حلب’ شہر میں تھا،  یہ دونوں صوفیاء کرام جنگوں اور تباہی کے شکار لوگوں کے دریدہ دل سیتے اور ابلتے ذہنوں پر مرہم رکھتے تھے۔  ابن عربی باطنی علوم کے ماہر تھے،  یہ ایک بار اپنے مریدوں کے ساتھ جنگل سے گزر رہے تھے۔ ارطغرل شکار کے لیے نکلا ہوا تھا۔اس نے ہرن کے ایک بچے پر تیر چلایا،ہرن کے بچے کی ٹانگ زخمی ہو گئی اور وہ دوڑ کر ابن عربی کے پاس چلا گیا۔  حضرت نے اس کی زخمی ٹانگ پر مرہم لگایا اور پٹی کر دی، ارطغرل اپنا زخمی شکار تلاش کرتا ہو ا ابن عربی تک پہنچ گیا۔  حضرت نے اسے اپنے ساتھ بٹھایا، کھانا کھلایا،  اس کی آنکھیں اور پیشانی دیکھی اور مسکرا کر فرمایا  ”تمہیں جتنے ملکوں کے نام یاد ہیں تم وہ بولو“ ارطغرل کو جتنے نام آتے تھے وہ بول دیے، حضرت نے فرمایا ”بس تمیں صرف یہ یاد ہیں“ ارطغرل نے ذہن پر زور دے کر ان میں مکہ، مدینہ اور فلسطین بھی شامل کر دیے۔حضرت ابن عربی مسکرائے اور فرمایا ”جاؤ یہ سارے ملک تمہارے ہوئے“ ارطغرل کا قبیلہ اس وقت قحط کا شکار تھا، برف باری سر پر تھی اور یہ لوگ اپنے جانوروں کے لیے خشک چارے تک کا بندوبست نہیں کر سکے تھے چناں چہ اس نے طنزیہ نظروں سے ابن عربی کی طرف دیکھا، مسکرایا اور اٹھ کر چلا گیا، ارطغرل کی ابن عربی سے دوسری ملاقات حلب شہر میں ہوئی۔  ارطغرل  اس وقت سلجوق خاندان کی ایک مفرور شہزادی حلیمہ کے عشق میں مبتلا تھا،قبیلہ اس عشق کے خلاف تھا، کیونکہ یہ شادی آغوز روایات کے بھی خلاف تھی اور یہ سیدھی سادی سلجوق حکومت کو آبیل مجھے مار کی دعوت دینے کے برابر بھی تھی اور قبیلے کی حالت یہ تھی کہ ان  کے پاس سردیوں میں سر چھپانے اور کھانے کے لیے گندم تک نہیں تھی، ارطغرل کے مزاج میں کمپرومائز کا مادہ نہیں تھا لہٰذا یہ ڈٹ گیا۔  یہ اس کی مشکل زندگی کا مشکل ترین دور تھا اور وہ اس دور میں دھکے کھاتا ہو ا ابن عربی کے مدرسے پہنچ گیا۔  ابن عربی نے اسے اپنے پاس مہمان رکھا، اس کی فکری رہنمائی کی، اس کو تسلی دی۔اس زمانے میں اسلامی ملکوں کے اندر ایک خاموش تحریک چل رہی تھی‘ یہ لوگ سفید داڑھی والے کہلاتے تھے، ان کی داڑھیاں چھوٹی اور سفید ہوتی تھیں، یہ انتہائی بااثر، امیر اور باعمل مسلمان تھے۔ ان کا ایک مضبوط جاسوس نیٹ ورک تھا، یہ پورے عالم اسلام میں پھیلے ہوئے تھے اور ایک دوسرے سے رابطے میں رہتے تھے، ان کی زندگی کا صرف ایک مقصد تھا، “اسلام اور عالم اسلام ” کی حفاظت، یہ اسلام کے لیے خطرہ بننے والے حکمرانوں تک کو قتل کر دیتے تھے۔سفید داڑھی والے سلجوق، عباسی، ایوبی اور مملوک چاروں سے تنگ تھے، یہ سمجھتے تھے یہ لوگ اگر ایک دوسرے سے اسی طرح لڑتے رہے تو پھر پورے عالم اسلام پر منگول قابض ہو جائیں گے یا پھر بازنطینی عیسائی اسلامی ریاستوں کو ہڑپ کر لیں گے، ان کا خیال تھا پورے عالم اسلام کو ایک ایسی مضبوط ریاست چاہیے جو عیسائیوں اور منگولوں کا مقابلہ بھی کر سکے اور یہودی سازشوں کو بھی توڑ سکے،یہ لوگ ابن عربی سے متاثر تھے، ابن عربی نے ارطغرل کا رابطہ ان لوگوں سے کرا دیا۔یہ لوگ اس سے متاثر ہوئے لیکن ان کا خیال تھا یہ ابھی اتنا کابل  نہیں کہ یہ کوئی ریاست بنا اور چلا سکے لہٰذا ان لوگوں نے اس کی پرورش اور تربیت کا فیصلہ کر لیا،یہ لوگ ارطغرل کو سیکھانے کو بھر پور کوشش  کر رہے تھے لیکن اس دوران ایک اور مسئلہ  پیدا ہو گیا،سلیمان شاہ کینسر کی وجہ سے انتقال کر گیا اور بڑے بھائی نے حلیمہ سے شادی کرنے کے جرم میں ارطغرل کو قبیلے سے نکال دیا، ارطغرل بیوی کو لے کر قبیلے سے نکلا تو اس کی ماں حیمہ اور اس کے ساتھیوں نے بھی قبیلہ چھوڑ دیا۔یہ چار سو لوگ تھے، یہ پناہ کی تلاش میں گھوڑوں پر خیمے باندھ کر دربدر پھرتے رہے، کبھی شام کے جنگلوں میں پناہ لے لیتے تھے اور کبھی سلجوق ریاست میں جا چھپتے تھے لیکن انہیں کوئی مستقل ٹھکانہ نہیں مل رہا تھا،یہ آخر میں دردر کی ٹھوکروں سے تنگ آ گئے اور انہوں نے واپس جانے اور اپنے قبیلے سے معافی مانگنے کا فیصلہ کر لیا،یہ واپسی کے لیے روانہ ہوئے تو راستے میں ایک عجیب واقعہ پیش آیا اور اس چھوٹے سے واقعے نے آگے چل کر دنیا کی سب سے بڑی اور مضبوط خلافت کی بنیاد رکھ دی، ہم اس خلافت کو خلافت عثمانیہ کہتے ہیں ۔ 

History of Ertugrul Gazi

ارطغرلغازی کون تھا؟

History of Ertugrul Gazi
History of Ertugrul Gazi

ارطغرل اپنے قبیلے کے چھوٹے سے حصے کے ساتھ رقہ واپس جا رہا تھا,وہ اپنے بڑے بھائی سے معذرت کر کے دوبارہ قائی قبیلے کا حصہ بننا چاہتا تھا,ماں حیمہ بھی اس کے ساتھ تھی۔ یہ لوگ جب “کوس داگ”  کے قریب پہنچے تو پہاڑ کے نیچے خوف ناک جنگ چل رہی تھی،یہ لوگ رک کر جنگ دیکھنے لگے، ارطغرل کے دماغ میں اچانک کوئی خیال آیا۔اس نے اپنے گھڑ سوار کو اشارہ کیا، خواتین اور بچوں کو پہاڑ پر چھوڑا اور یہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ جنگ میں کود پڑا جون کا مہینہ تھا، خوف ناک گرمی تھی، ارطغرل کے ساتھ صرف دو سو گھڑ سوار تھے لیکن یہ لوگ جب پہاڑ سے اترے اور دھول اڑی تو یوں محسوس ہوا جیسےایک بہت بڑا لشکر اتر آیا ہے، یہ لوگ نیچے پہنچے توقائی گھڑ سواروں نے ارطغرل سے پوچھا،ہم نے کس کا ساتھ دینا ہے۔ ارطغرل نے قہقہہ لگا کر جواب دیا ”مظلوم کا“ آپ یہ جان کر حیران ہوں گے ارطغرل اور اس کے گھڑ سواروں کو اس وقت تک قطعی یہ علم نہیں تھا یہ جنگ کن کے درمیان ہو رہی ہے ۔اور ان میں ظالم اور مظلوم کون ہیں؟ یہ لوگ بس بلاوجہ اس جنگ میں کود پڑے تھے اور دونوں لشکر انہیں اپنا ساتھی سمجھ رہے تھے،یہ لوگ میدان کے قریب پہنچ کر رکے،انہوں نے مظلوم کا اندازہ لگایا اور دوڑ کر اس کی طرف سے لڑنا شروع کر دیا،یہ تازہ دم تھے،ماہر تلوار باز اور بہادر تھے لہٰذا یہ لڑنے لگے تو مظلوم لشکر کو حوصلہ ہو گیا۔ اس کے اکھڑتے قدم جم گئے اور وہ جی جان سے لڑنے لگا یوں دیکھتے ہی دیکھتے جنگ کا پانسہ پلٹ گیا،ہارتا ہوا لشکر جیت گیا اور جیتی ہوئی فوج پسپا ہو گئی۔  جنگ ختم ہوئی تو ارطغرل کو پتا چلا اس نے سلجوق سلطان علاؤ الدین کیقباد کی مدد کی تھی،سلجوق سلطان منگولوں کے ساتھ لڑ رہا تھا۔وہ یہ جنگ تقریباً ہار چکا تھا اور اناطولیہ کی سلطنت اس کے ہاتھ سے نکل چکی تھی لیکن پھر اچانک ارطغرل غیبی مدد بن کر پہاڑ سے اترا اور اس نے اس کا ملک بچا لیا۔علاؤ الدین سلجوق نے ارطغرل کو بلایا۔اس کی کہانی سنی،اس کی جرات اور بہادری کی داد دی، اس کا ماتھا چوما اور اس سے پوچھا ”مانگو جو مانگتے ہو، میں ابھی تمہیں دوں گا“ ارطغرل کے پاس رہنے کے لیے جگہ نہیں تھی، اس نے اپنے قبیلے کے لیے جگہ مانگ لی،سلطان نے قہقہہ لگایا اور کہا ”بس اتنی سی خواہش“ ارطغرل نے جواب دیا ”سلطان ہماری ضرورت اور اوقات اس سے زیادہ نہیں“ سلطان نے میز پر نقشہ بچھایا،چاقو سے اس پر نشان لگایا اور’صغوط ‘کا علاقہ اسے دے دیا۔صغوط کی وادی وسیع چراگاہوں،جنگلوں اور جھیلوں پر مشتمل تھی،دریائے سقاریہ اسے سیراب کرتا تھا اور یہ بازنطینی سرحد پر واقع تھی۔ بازنطینی ریاست کا بڑا شہر بورسا سوکلو میٹر کے فاصلے پر تھا۔ سلطان علاؤ الدین نے یہ وادی ارطغرل کے حوالے کرنے کے بعد اسے بازنطینی شہر فتح کرنے کی اجازت بھی دے دی اور اسے اپنا مشیر خاص بھی بنا لیا۔ارطغرل نے رقہ جانے کی بجائے اپنا قبیلہ لیا اور یہ دریائے سقاریہ کے ساتھ صغوط کی وادی میں آباد ہو گیا اور اس نے صغوط شہر آباد کرنا شروع کر دیا، قائی قبیلے کے لوگ مختلف ملکوں اور علاقوں سے آتے رہے اور اس کے ساتھ جڑتے رہے۔ آغوز قبائل کے مجبور اور مسکین بھی اس کے پاس آتے تھے اور وہ انہیں پناہ اور زمین دے دیتا تھا۔ ارطغرل باقی پوری زندگی اس وادی سے باہر نہ گیااور پور ی زندگی صرف کر دی ۔ہانلی بازار‘ قراجہ حصار‘ انگول، ازنیق اور بیلک کو دراصل اس کے بیٹے عثمان غازی نے فتح کیا تھا،ارطغرل کے صرف دو کمال تھے‘ سلطان علاؤ الدین سے صغوط کی وادی حاصل کرنا اور اپنے تیسرے بیٹے عثمان کی تربیت کرنا۔اس نے اپنی زندگی اپنے قبیلے اور اپنی نسل کی ٹریننگ کے لیے وقف کر دی تھی اور وہ یہ کام 1288ء میں اپنے انتقال تک کرتا رہا۔انتقال کے بعد اسے صغوط ہی میں دفن کر دیا گیا۔ ارطغرل کی قبر آج بھی صغوط شہر میں ہے۔اس دوران سلجوق کم زور ہو گئے‘ علاؤ الدین سلجوق کو زہر دے کر قتل کر دیا گیا، علاؤ الدین کے تین بیٹے تھے، تینوں تخت کے لیے لڑ پڑے، ریاست مزید کم زور ہو گئی۔غیاث الدین سلجوق بادشاہ بنا،وہ آخر میں منگولوں کے ہاتھوں مارا گیا اور یوں سلجوق ریاست ختم ہو گئی جس کے بعد قائی قبیلے کے پاس دو آپشن بچے تھے، یہ بھی منگولوں کے ساتھ لڑ کر مر جاتے یا پھر یہ خاموشی کے ساتھ کوئی درمیانی راستہ نکالتے، ارطغرل کے تین بیٹے تھے،گوندوز،سارو باتو اور عثمان غازی۔عثمان 1258ء میں صغوط میں پیدا ہوا تھا۔یہ بہت سمجھ دار اور بہادر تھا، اس نے قبیلے کی کمان سنبھالی اور منگولوں کو حقیقت مان لیا، منگول بازنطینی ریاست کو تاراج کر رہے تھے،بازنطینی قائی قبیلے کے دشمن بھی تھے چناں چہ عثمان غازی نے منگولوں کے ساتھ معاہدہ کر لیا کہ یہ منگولوں پر حملہ نہیں کریں گے اور منگول ان سے صغوط نہیں چھینیں گے اور مزید یہ بازنطینی ریاست پر حملے جاری رکھیں گے تاکہ منگول مشرقی یورپ پر اپنا قبضہ مضبوط رکھ سکیں۔منگول اس وقت تک مشرقی یورپ فتح کر چکے تھے،عثمان غازی کے پاس سرفروشوں کا ایک مضبوط دستہ تھا،اس دستے نے بازنطینیوں سے ”یک شہر“ چھین کر فتوحات کا نیا سلسلہ شروع کر دیا، یہ بعد ازاں ہانلی بازار اور قراجہ حصار پر بھی قابض ہو گئے۔ عثمان غازی کی دوبیویاں اورسات بیٹے تھے، اورخان عثمان کے تمام بچوں سے زیادہ ذہین اور بہادر تھا،وہ قائی لشکر میں شامل ہوا اور سپہ سالار بن گیا، عثمان غازی کی زندگی کی دو بڑی خواہشیں تھیں،ازنیق اور بورسا شہر فتح کرنا۔یہ دونوں شہر سات سو سال پہلے بہت چھوٹے تھے لیکن یہ اس کے باوجود عثمان غازی کی زندگی کی معراج تھے‘ کیوں؟ کیونکہ  اس کے قبیلے کے پاس ایک نسل پہلے تک خیمے لگانے کے لیے بھی زمین نہیں تھی،صغوط شہر بھی ان لوگوں نے خود آباد کیا تھا اور یہ اس وقت تک ایک چھوٹا سا گاؤں تھا،اس میں قلعہ اور فصیل تک نہیں تھی چناں چہ عثمان کی خواہشوں کے گھوڑے ازنیق اور بورسا جیسے شہروں کے سامنے پہنچ کر رک جاتے تھے، اس کی سوچیں بھی اس سے آگے نہیں سوچ سکتی تھیں۔اورخان اپنے والد سے عشق کرتا تھا چناں چہ اس نے اپنی زندگی والد کی خواہش کے لیے وقف کر دی، بورسا شہر1326ء میں فتح ہوگیا، عثمان غازی اس وقت تک بوڑھا ہو چکا تھا۔وہ بیمار اور لاغر تھا،بیٹے نے بورسا کے مضافات میں والد کو گھوڑ سے اتارا، سامنے چنار کا ایک گھنا درخت تھا،اورخان نے والد کو درخت کے نیچے بٹھا دیا،عثمان غازی نے بیٹے کا ماتھا چوما اور وادی کو پیار سے دیکھ کر بولا ”میری زندگی کی ساری خواہشیں پوری ہو گئی ہیں،اب میرے جانے کا وقت آ گیا ہے“۔بیٹے کی آنکھوں میں آنسو آ گئے، اس نے والد کا ہاتھ چوما،اپنے سپاہیوں کو بلایا اور اونچی آواز میں بولا ”ہم آج سے عثمان غازی کے نام سے سلطنت عثمانیہ کی بنیاد رکھ رہے ہیں اور میں اس سلطنت کا پہلا شہری اور سپاہی ہوں“۔ اس نے والد کا ہاتھ تھاما،بوسا دیا اور بیعت کر لی،سپاہی بھی قطار میں کھڑے ہوئے اور یا سلطان کہہ کر عثمان بن ارطغرل کی بیعت کرتے چلے گئے یوں سلطنت عثمانیہ کی بنیاد پڑ گئی،چنار کا وہ درخت آج تک بورسا کے مضافات میں موجود ہے۔عثمان غازی بورسا کی فتح کے چند ماہ بعد انتقال کر گیا،اسے بورسا کی پہاڑی پر دفن کر دیا گیا اور وہ پہاڑی دو نسل بعد ارطغرل خاندان کا شاہی قبرستان بن گئی۔عثمان غازی کے بعد اور خان نے  کمان اقتدار سنبھالی اور کمال کر دیا لہٰذا ہم اگر کسی کو عثمانی سلطنت کا کریڈٹ دے سکتے ہیں تو وہ اورخان تھا‘کیوں؟ کیونکہ  ارطغرل کا سفر صغوط پہنچ کر ختم ہو گیا تھا اور عثمان غازی کی خواہشوں کے گھوڑوں نے بورسا کے قلعے پر پہنچ کر دم توڑ دیا تھا لہٰذا خاندان کو اگر اورخان نہ ملتا تو قائی قبیلے کی کہانی 1326ء میں بورسا پہنچ کر ختم ہو جاتی اور ہم آج خلافت عثمانیہ سے واقف ہوتے،قائی قبیلے اور نہ ارطغرل سے،وقت انہیں خاک کی طرح اناطولیہ کی فضا میں تحلیل کر چکا ہوتا اور ان کی داستان تک نہ ہوتی داستانوں میں! ۔ 

History of Ertugrul Gazi

Related Articles

Back to top button